ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / انکولہ کے سونکسال میں ایک اور یلاپور اریبیل گھاٹ پر پائی گئی دوسری لاش؛ کیا ان دونوں کو قتل کرکے جنگل میں پھینکا گیا ؟

انکولہ کے سونکسال میں ایک اور یلاپور اریبیل گھاٹ پر پائی گئی دوسری لاش؛ کیا ان دونوں کو قتل کرکے جنگل میں پھینکا گیا ؟

Sun, 26 Mar 2017 13:26:55    S.O. News Service

کاروار 26؍مارچ (ایس او نیوز) ضلع اُترکنڑا کے ایک علاقہ سے پہلے ایک لاش، پھر چند دنوں بعد اُسی کے دوست کی لاش کسی اور علاقہ سے برآمد ہونے کے بعد یہ اب معمہ بن گیا ہے کہ کیا ان دونوں کا کسی نے قتل کرکے ان کو جنگلوں میں پھینک دیا ہے ؟ اگر ہاں تو کس نے اور کیوں ان دونوں کا قتلکیا ؟

ایک لاش انکولہ  تعلقہ کے سونکسال جنگلاتی علاقے میں کافی دنوں قبل  سڑی گلی حالت میںملی تھی جس کی شناخت نہیں ہوپائی  تھی مگر اب خبر ملی ہے کہاس کی شناخت  اشیش رنجن کی حیثیت سے کی گئی ہے جبکہ سنیچر کو انکولہ سے قریب  25کیلومیٹر دوری پرواقع یلاپور کے اربیل گھاٹ پر دوسری لاش برآمد ہوئی ہے جس کی شناخت ایوب شیخ کی حیثیت سے کی گئی ہے ۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ  یہ دو گہرے دوستوں کی لاشیں ہیں۔جسسے شبہ گہر ا ہوگیا ہے کہ کہیں یہ دوہرے قتل کا معاملہ تو نہیں ہے۔

اریبیل گھاٹ کے علاقے میں نیشنل ہائی وے 18پرسڑک کنارے نالی میں ملنے والی لاش کے تعلق سے بتایا جاتا ہے کہ کاروار کاجو باغ میں موبائیل دکان کے مالک ایوب شیخ (۳۵سال) کی لاش ہے، جسے اس کے گھر والوں نے کپڑے اور چہرے کو دیکھ کر پہچان لیا ہے۔کہا جاتا ہے کہ ایوب شیخ دو ہفتے قبل گوا میں قیام پذیر رانچی کے ایک دوست آشیش رنجن کے ساتھ داونگیرے جا کر آنے کا کہہ کر گھر سے نکلا تھا۔ حالانکہ اس کے بعد اس کی کوئی خبر نہیں ملی تھی لیکن گھر والوں نے اس کی گمشدگی کی رپورٹ کہیں بھی درج نہیں کی تھی۔

اسی دوران دو ہفتے قبل انکولہ کے سونکسال کے قریب واقع جنگلاتی علاقے میں ایک35سالہ نامعلوم شخص کی لاش دستیاب ہوئی تھی۔اس کی تصویرسوشیل میڈیا کے ذریعے شناخت کے لئے عام کی گئی تھی۔پتہ چلا ہے کہ وہ لاش گوا کے ماپسا میں رہنے والے آشیش رنجن کی ہے جس کی گمشدگی کی شکایت اس کی بیوی نے  درج کروائی تھی، جس کے بعد اس نے انکولہ پہنچ کر آشیش کی لاش کو پہچان لیاتھا۔ اب اس کے بعد ایوب شیخ کے رشتہ داروں نے بھی یلاپور پولیس اسٹیشن پہنچ کر اس کی شناخت کرلی ہے۔

اس طرح دو الگ الگ مقامات پر دو دوستوں کی لاشیں پائے جانے سے عوام کے اندر یہ شبہ گہرا ہوگیا ہے کہ ان دونوں کو قتل کرکے الگ الگ مقامات پر پھینک دیا گیا ہوگا۔موت کے جو بھی اسباب ہونگے وہ پولیس تحقیقات سے ہی سامنے آئیں گے۔ یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ گزشتہ تین سال قبل اس علاقے میں اس طرح کے قتل کے واقعات ہوچکے ہیں جب نیشنل ہائی وے پر لاریوں کو لوٹنے والے ایک گروہ نے دو لاری ڈرائیوروں کو قتل کرنے کے بعد دونوں لاشوں کو ایک دوسرے سے 25کیلومیٹر کی دوری پر پھینک دیا تھا۔اورپولیس کی تحقیقات سے وہ معمہ حل کرلیا گیا تھا۔ امید کی جارہی ہے کہ ایوب شیخ اورآشیش رنجن کی لاشوں کے پیچھے موجود راز پر سے جلد ہی پردہ اٹھ جائے گا۔


Share: